Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4779 (سنن النسائي)

[4779] إسنادہ ضعیف

ترمذی (3759)

انوار الصحیفہ ص 356

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللہِ،عَنْ إِسْرَائِيلَ،عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی،أَنَّہُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ،يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ،أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي أَبٍ كَانَ لَہُ فِي الْجَاہِلِيَّةِ،فَلَطَمَہُ الْعَبَّاسُ،فَجَاءَ قَوْمُہُ فَقَالُوا: لَيَلْطِمَنَّہُ كَمَا لَطَمَہُ،فَلَبِسُوا السِّلَاحَ،فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: ((أَيُّہَا النَّاسُ،أَيُّ أَہْلِ الْأَرْضِ تَعْلَمُونَ أَكْرَمُ عَلَی اللہِ عَزَّ وَجَلَّ؟)) فَقَالُوا: أَنْتَ. فَقَالَ: ((إِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْہُ،لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا،فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا)) فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ،نَعُوذُ بِاللہِ مِنْ غَضَبِكَ،اسْتَغْفِرْ لَنَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عباس کے جاہلی دور کے ایک جد امجد کو برا بھلا کہا۔حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسے تھپڑ رسید کر دیا۔اس آدمی کے قبیلے والے آئے اور کہنے لگے: یہ بھی انھیں تھپڑ مارے گا جس طرح انھوں نے اسے تھپڑ مارا ہے حتیٰ کہ انھوں نے اسلحہ پہن لیا۔یہ بات نبی اکرمﷺ تک پہنچی۔آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا: ’’اے لوگو! تم روئے زمین پر بسنے والے لوگوں میں سے کس شخص کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ معزز ومحترم سمجھتے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: آپ کو۔آپ نے فرمایا: ’’پھر سن لو! عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ہمارے فوت شدہ آباؤ اجداد کو برا نہ کہو۔اس طرح تم ہم میں سے زندہ افراد کو تکلیف پہنچاؤ گے۔‘‘ وہ لوگ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: ہم آپ کی ناراضی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔(معاف فرما دیجئے اور) اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بخش کی دعا فرمائیے۔