Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4822 (سنن النسائي)

[4822]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ،قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ،عَنْ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّہُ قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ ہُذَيْلٍ،فَرَمَتْ إِحْدَاہُمَا الْأُخْرَی بِحَجَرٍ-وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاہَا-فَقَتَلَتْہَا وَمَا فِي بَطْنِہَا،فَاخْتَصَمُوا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،أَنَّ دِيَةَ جَنِينِہَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ،وَقَضَی بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَی عَاقِلَتِہَا وَوَرَّثَہَا وَلَدَہَا وَمَنْ مَعَہُمْ،فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْہُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللہِ،كَيْفَ أُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ،وَلَا أَكَلْ،وَلَا نَطَقَ،وَلَا اسْتَہَلَّ،فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا ہَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُہَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِہِ الَّذِي سَجَعَ))

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں۔ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا۔نتیجتاً اسے بھی قتل کر دیا اور اس کے پیٹ کے بچے کو بھی۔وہ (ورثائ) یہ جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے تو رسول اللہﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ پیٹ کے بچے کی دیت غرہ ہے،یعنی ایک غلام یا لونڈی،نیز اپ نے فیصلہ فرمایا کہ (قاتلہ) عورت کے ذمے واجب الادا دیت اس کے عصبہ بھریں گے۔اور آپ نے اس (مقتولہ) کی اولاد اور دیگر ورثاء کو اس کا وارث بنایا۔حضرت حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیسے اس (بچے) کی دیت بھروں جس نے نہ پی نہ کھایا،نہ بولا نہ چلایا؟ اس جیسا (بچہ) تو ضائع اور لغو (بلا دیت) ہوتا ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’یہ تو کاہنوں میں سے ایک کاہن محسوس ہوتا ہے۔‘‘ (آپ نے یہ بات فرمائی) اس لیے کہ اس نے مسجع کلام کیا تھا۔