Sunan Al-Nasai Hadith 4829 (سنن النسائي)
[4829]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ،قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللہِ،عَنْ شُعْبَةَ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ،عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ ہُذَيْلٍ،فَرَمَتْ إِحْدَاہُمَا الْأُخْرَی بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأَسْقَطَتْ،فَاخْتَصَمَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالُوا: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ،وَلَا اسْتَہَلَّ،وَلَا شَرِبَ،وَلَا أَكَلْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ)) فَقَضَی بِالْغُرَّةِ عَلَی عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہذیل کے ایک آدمی کے نکاح میں دو عورتیں تھیں۔ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی دے ماری اور اس کے پیٹ کا بچہ گرا دیا۔فریقین جھگڑتے ہوئے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔قاتل فریق کہنے لگا: ہم اس بچے کی کیسے دیت ادا کریں جس نے پیا نہ کھایا،نہ چیخا نہ چلایا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’کیا اعرابیوں کی طرح تک بندی کر رہے ہو؟‘‘ پھر آپ نے غرہ (غلام یا لونڈی بطور دیت) قاتل عورت کے نسبی رشتہ داروں کے ذمے ڈال دی۔