Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4839 (سنن النسائي)

[4839]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ،قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ،عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ،قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ ہِلَالٍ،يُحَدِّثُ،عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ،أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللہِ،ہَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا-رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ-فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَی أُخْرَی))

بنو ثعلبہ بن یربوع (قبیلے) میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنو ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرمﷺ کے پاس آئے تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے نبیﷺ کے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں۔‘‘