Sunan Al-Nasai Hadith 4866 (سنن النسائي)
[4866]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ،عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ،عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّہُ كَانَ يُصَلِّي،فَإِذَا بِابْنٍ لِمَرْوَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْہِ فَدَرَأَہُ،فَلَمْ يَرْجِعْ فَضَرَبَہُ،فَخَرَجَ الْغُلَامُ يَبْكِي حَتَّی أَتَی مَرْوَانَ فَأَخْبَرَہُ،فَقَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ: لِمَ ضَرَبْتَ ابْنَ أَخِيكَ؟ قَالَ: مَا ضَرَبْتُہُ،إِنَّمَا ضَرَبْتُ الشَّيْطَانَ. سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ فَأَرَادَ إِنْسَانٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْہِ فَيَدْرَؤُہُ مَا اسْتَطَاعَ،فَإِنْ أَبَی فَلْيُقَاتِلْہُ،فَإِنَّہُ شَيْطَانٌ))
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔اتنے میں حضرت مروان کا ایک بیٹا ان کے آگے سے گزرنے لگا۔انھوں نے اس کو پیچھے دھکیلا لیکن وہ پیچھے نہ ہٹا تو انھوں نے اسے مارا۔وہ روتا ہوا چلا گیا حتی کہ حضرت مروان کے پاس پہنچ گیا اور جا کر انھیں بتایا۔حضرت مروان نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہا: آپ نے اپنے بھتیجے (میرے بیٹے) کو کیوں مارا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اس کو نہیں مارا۔میں نے تو شیطان کو مارا ہے۔میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے: ’’جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی دوسرا شخص اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اپنی طاقت کی حد تک اسے روکنے کی کوشش کرے۔اگر وہ (رکنے سے) انکار کر دے (اور روکنے کے باوجود پھر بھی گزرنے پر مصر رہے) تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘