Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4899 (سنن النسائي)

[4899]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِہَا النَّبِيُّ ﷺ فَقَالُوا مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أُسَامَةَ فَكَلَّمُوا أُسَامَةَ فَكَلَّمَہُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ يَا أُسَامَةُ إِنَّمَا ہَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ كَانُوا إِذَا أَصَابَ الشَّرِيفُ فِيہِمْ الْحَدَّ تَرَكُوہُ وَلَمْ يُقِيمُوا عَلَيْہِ وَإِذَا أَصَابَ الْوَضِيعُ أَقَامُوا عَلَيْہِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُہَا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے چوری کرلی۔اسے نبی اکرمﷺ کے پاس لایا گیا۔لوگوں (عورت کے رشتے داروں) نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے سامنے سفارش کی کون جرات کرسکتا ہے؟ اسامہ شاید کرے۔انہوں نے حضرت اسامہ ﷜ سے کہا۔اسامہ نے رسول اللہ ﷺ سے (اس عورت کی معافی کی) سفارش کر دی۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا:’’اسامہ! بنو اسرائیل اسی لیے ہلاک ہوئے تھے کہ جب ان میں کوئی بلند مرتبہ شخص کوئی حد پھلانگ لیتا تو اسے چھوڑ دیتے اور حد نہ لگاتے۔اور جب کوئی کم مرتبہ شخص غلطی کر بیٹھتا تو اس پر حد قائم کردیتے۔اگر اس کی بجائے محمد(ﷺ) کی بیٹی فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘