Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4901 (سنن النسائي)

[4901]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالُوا مَا نُكَلِّمُہُ فِيہَا مَا مِنْ أَحَدٍ يُكَلِّمُہُ إِلَّا حِبُّہُ أُسَامَةُ فَكَلَّمَہُ فَقَالَ يَا أُسَامَةُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ ہَلَكُوا بِمِثْلِ ہَذَا كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيہِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوہُ وَإِنْ سَرَقَ فِيہِمْ الدُّونُ قَطَعُوہُ وَإِنَّہَا لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُہَا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے دور مبارک میں چوری کرلی۔لوگ کہنے لگے: ہم تو اس کے بارے میں آپ سے بات نہیں کرسکتے اور بھی کوئی نہیں کرسکتا مگر اسامہ جو آپ کو بہت پیارے ہیں۔حضرت اسامہ ﷜ نے آپ سے سفارش کی تو آپ نے فرمایا: اے اسامہ! بنی اسرائیل اس جیسے کاموں کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔جب ان میں سے کوئی بلند مرتبہ شخص چوری کرلیتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کم مرتبہ شخص ان میں چوری کر بیٹھتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔اگر (چوری کرنے والی) محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘