Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5014 (سنن النسائي)

[5014]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَہْلٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْہِمْ قُمُصٌ مِنْہَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْہَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْہِ قَمِيصٌ يَجُرُّہُ قَالَ فَمَاذَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ الدِّينَ

حضرت ابو سعید﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں ایک دفعہ سویا ہوا تھا کہ(خواب میں)دیکھا لوگ مجھ پر پیش کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے قمیصیں پہن رکھی ہیں۔بعض(تو اتنی چھوٹی ہیں کہ)پستانوں تک ہی پہنچتی ہیں اور کچھ ان سے نیچی ہیں۔عمر بن خطاب مجھ پر پیش کیے گئے تو ان پر اتنی لمبی قمیص تھی کہ زمیں پر گھسٹ رہی تھی‘‘صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسولﷺ!آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ٖپ تے فرمایا:’’دین‘‘