Sunan Al-Nasai Hadith 5143 (سنن النسائي)
[5143]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدٌ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ حَدَّثَہُ قَالَ جَاءَتْ بِنْتُ ہُبَيْرَةَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَفِي يَدِہَا فَتَخٌ فَقَالَ كَذَا فِي كِتَابِ أَبِي أَيْ خَوَاتِيمُ ضِخَامٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَضْرِبُ يَدَہَا فَدَخَلَتْ عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللہِ ﷺ تَشْكُو إِلَيْہَا الَّذِي صَنَعَ بِہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ فَانْتَزَعَتْ فَاطِمَةُ سِلْسِلَةً فِي عُنُقِہَا مِنْ ذَہَبٍ وَقَالَتْ ہَذِہِ أَہْدَاہَا إِلَيَّ أَبُو حَسَنٍ فَدَخَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَالسِّلْسِلَةُ فِي يَدِہَا فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ أَيَغُرُّكِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ ابْنَةُ رَسُولِ اللہِ وَفِي يَدِہَا سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ فَأَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ بِالسِّلْسِلَةِ إِلَی السُّوقِ فَبَاعَتْہَا وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِہَا غُلَامًا وَقَالَ مَرَّةً عَبْدًا وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاہَا فَأَعْتَقَتْہُ فَحُدِّثَ بِذَلِكَ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي أَنْجَی فَاطِمَةَ مِنْ النَّارِ
رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان نے بیان فرمایا کہ حضرت فاطمہ بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو ان کے ہاتھ میں بڑی بڑی انگوٹھیاں تھیں۔رسول اللہﷺ ان کے ہاتھ پر (کوئی چیز) مارنے لگے۔وہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کے پاس گئیں اور ان سے رسول اللہﷺ کے اس سلوک کا شکوہ کیا۔(یہ سن کر) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نےاپنے گلے میں ڈالی ہوئی سونے کی زنجیر کھینچ ڈالی اور کہنے لگیں: یہ زنجیر مجھے ابوحسن (حضرت علی) نے تحفہ میں دی ہے۔رسول اللہﷺ تشریف لائے تو زنجیران کے ہاتھ ہی میں تھی۔آپ نے فرمایا: فاطمہ! کہ بات تیرے لیے عزت افزا ہے کہ (قیامت کے دن) لوگ کہیں،رسول اللہﷺ کی بیٹی کے ہاتھ میں آگ کی زنجیر ہے؟ پھر آپ واپس چلے گئے،بیٹھے نہیں۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہ زنجیر بازار بھیج کر بیچ دی اور اس کی قیمت سے ایک غلام خرید لیا اور اسے آزاد کردیا۔رسول اللہﷺ کوساری بات بیان کی گئی توآپ نے فرمایا: شکر ہے اللہ تعالی کا اس نے فاطمہ کو آگ سے بچالیا۔