Sunan Al-Nasai Hadith 5155 (سنن النسائي)
[5155]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ أَنْبَأَنَا أَسْبَاطٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ مَطَرٍ عَنْ أَبِي شَيْخٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ مُعَاوِيَةَ فِي بَعْضِ حَجَّاتِہِ إِذْ جَمَعَ رَہْطًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺ فَقَالَ لَہُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَہَی عَنْ لُبْسِ الذَّہَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا قَالُوا اللہُمَّ نَعَمْ خَالَفَہُ يَحْيَی بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَلَی اخْتِلَافٍ بَيْنَ أَصْحَابِہِ عَلَيْہِ
حضرت ابوالشیخ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت معاویہ کے کسی حج کے دوران میں ہم ان کے ساتھ تھے کہ انہوں نے حضرت محمدﷺ کے صحابہ میں سے کئی صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہﷺ نے (مردوں کو) سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ وہ مختلف جگہوں پر تھوڑا تھوڑا ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! جی ہاں۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے مطر (الورق) کی مخالفت کی ہے،نیز اس (یحییٰ بن ابی کثیر) پر اس کے شاگردوں نے بھی اختلاف کیا ہے۔