Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 844 (سنن النسائي)

[844]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُمْ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ شُعْبَةُ وَقَالَ أَبُو إِسْحَقَ وَقَدْ سَمِعْتُہُ مِنْہُ وَمِنْ أَبِيہِ قَالَ سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ صَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ يَوْمًا صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَالَ أَشَہِدَ فُلَانٌ الصَّلَاةَ قَالُوا لَا قَالَ فَفُلَانٌ قَالُوا لَا قَالَ إِنَّ ہَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَاةِ عَلَی الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيہِمَا لَأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَالصَّفُّ الْأَوَّلُ عَلَی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَہُ لَابْتَدَرْتُمُوہُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَی مِنْ صَلَاتِہِ وَحْدَہُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَی مِنْ صَلَاتِہِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَانُوا أَكْثَرَ فَہُوَ أَحَبُّ إِلَی اللہِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھائی،پھر فرمایا: ’’کیا فلاں شخص نماز میں حاضر ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: ’’فلاں؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: ’’یہ دو نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر انتہائی بوجھل ہیں۔اگر وہ ان کی فضیلت جان لیں تو ضرور حاضر ہوں اگرچہ گھسٹ کر آنا پڑے۔پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے۔اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو تم (اس کے حصول کے لیے) ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔اور آدمی کی نماز ایک اور آدمی کے ساتھ مل کر اکیلے کی نماز سے افضل ہے۔اور دو آدمیوں کے ساتھ مل کر پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ مل کر پڑھی ہوئی نماز سے افضل ہے۔اور وہ جس قدر زیادہ ہوں اتنا ہی اللہ عزوجل کو زیادہ محبوب ہے۔‘‘