Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 885 (سنن النسائي)

[885]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَرَدَّ عَلَيْہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ فَصَلَّی كَمَا صَلَّی ثُمَّ جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَسَلَّمَ عَلَيْہِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ ہَذَا فَعَلِّمْنِي قَالَ إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّہَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو ایک اور آدمی بھی آیا اور اس نے نماز پڑھی۔پھر وہ آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا۔رسول اللہ ﷺ نے اسے جواب دیا اور فرمایا: ’’واپس جا،پھر نماز پڑھ،تو نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘ وہ واپس گیا۔دوبارہ نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی اور نبی ﷺ کے پاس آیا اور سلام کیا۔آپ نے فرمایا: ’’وعلیک السلام۔واپس جا،پھر نماز پڑھ،تو نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘ اس آدمی نے تین دفعہ ایسے ہی کیا۔آخر اس آدمی نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں اس سے اچھی نہیں پڑھ سکتا،لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجیے۔آپ نے فرمایا: ’’جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو (سب سے پہلے) اللہ اکبر کہہ۔پھر جس قدر تو قرآن پڑھ سکے،پڑھ۔پھر رکوع کر حتی کہ تجھے رکوع میں اطمینان نصیب ہو۔پھر سر اٹھا حتی کہ سیدھا کھڑا ہوجائے۔پھر سجدہ کر حتی کہ سجدے میں تجھے اطمینان حاصل ہو۔پھر سر اٹھا حتی کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے۔پھر اپنی ساری نماز میں اسی طرح کر۔‘‘