Sunan Al-Nasai Hadith 941 (سنن النسائي)
[941]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ نُفَيْلٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللہِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ سُورَةً فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ جَالِسٌ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَؤُہَا يُخَالِفُ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ لَہُ مَنْ عَلَّمَكَ ہَذِہِ السُّورَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقُلْتُ لَا تُفَارِقْنِي حَتَّی نَأْتِيَ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَأَتَيْتُہُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ ہَذَا خَالَفَ قِرَاءَتِي فِي السُّورَةِ الَّتِي عَلَّمْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ اقْرَأْ يَا أُبَيُّ فَقَرَأْتُہَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ أَحْسَنْتَ ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ اقْرَأْ فَقَرَأَ فَخَالَفَ قِرَاءَتِي فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَحْسَنْتَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَا أُبَيُّ إِنَّہُ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّہُنَّ شَافٍ كَافٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللہِ لَيْسَ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اللہ کے رسول ﷺ نے ایک سورت پڑھائی۔میں مسجد میں بیٹھا تھا کہ میں نے ایک آدمی کو وہی سورت اپنی قراءت کے خلاف پڑھتے سنا۔میں نے کہا: تجھے یہ سورت کس نے سکھائی ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے۔میں نے کہا: مجھ سے جدا نہ ہو حتی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جائیں۔پھر میں (اس کے ساتھ) آپ کے پاس آیا اور کہا: یہ شخص اس سورت میں میری قراءت کے خلاف پڑھتا ہے جو آپ نے مجھے سکھائی ہے۔آپ نے فرمایا: ’’ابی! پڑھو۔‘‘ میں نے وہ سورت پڑھی تو آپ نے فرمایا: ’’تم نے اچھا پڑھا۔‘‘ پھر اس آدمی سے کہا: ’’تم پڑھو۔‘‘ اس نے میری قراءت سے مختلف پڑھا تو اسے بھی اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تو نے بھی اچھا پڑھا۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے ابی! قرآن سات حروف میں اترا ہے۔ان میں سے ہر ایک شافی و کافی ہے۔‘‘ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (سند میں مذکور راوی) معقل بن عبید اللہ علم حدیث میں قوی نہیں ہے۔