Jamia al-Tirmidhi Hadith 1000 (سنن الترمذي)
[1000]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَيَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَہُ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ فَنِيحَ عَلَيْہِ فَجَاءَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللہَ وَأَثْنَی عَلَيْہِ وَقَالَ مَا بَالُ النَّوْحِ فِي الْإِسْلَامِ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَنْ نِيحَ عَلَيْہِ عُذِّبَ بِمَا نِيحَ عَلَيْہِ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَأَبِي مُوسَی وَقَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ وَجُنَادَةَ بْنِ مَالِكٍ وَأَنَسٍ وَأُمِّ عَطِيَّةَ وَسَمُرَةَ وَأَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں:انصار کا قرظہ بن کعب نامی ایک شخص مرگیا،اس پر نوحہ ۱؎ کیاگیاتو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ آئے اور منبر پر چڑھے۔اوراللہ کی حمد وثنا بیان کی پھرکہا: کیا بات ہے؟ اسلام میں نوحہ ہورہاہے۔سنو! میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے سناہے: حس پر نوحہ کیاگیا اس پر نوحہ کیے جانے کا عذاب ہوگا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-مغیرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں عمر،علی،ابوموسیٰ،قیس بن عاصم،ابوہریرہ،جنادہ بن مالک،انس،ام عطیہ،سمرہ اورابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔