Jamia al-Tirmidhi Hadith 1001 (سنن الترمذي)
[1001]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ وَالْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَہُنَّ النَّاسُ النِّيَاحَةُ وَالطَّعْنُ فِي الْأَحْسَابِ وَالْعَدْوَی أَجْرَبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائَةَ بَعِيرٍ مَنْ أَجْرَبَ الْبَعِيرَ الْأَوَّلَ وَالْأَنْوَاءُ مُطِرْنَا بِنَوْءٍ كَذَا وَكَذَا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں چار باتیں جاہلیت کی ہیں،لوگ انہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا،حسب ونسب میں طعنہ زنی،اوربیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانے کاعقیدہ رکھنا مثلاً یوں کہناکہ ایک اونٹ کوکھجلی ہوئی اور اس نے سواونٹ میں کھجلی پھیلادی تو آخر پہلے اونٹ کوکھجلی کیسے لگی؟ اور نچھتروں کا عقیدہ رکھنا۔مثلاًفلاں اورفلاں نچھتر(ستارے) کے سبب ہم پر بارش ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔