Jamia al-Tirmidhi Hadith 1006 (سنن الترمذي)
[1006]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ قَالَ و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَہَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْہِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ غَفَرَ اللہُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّہُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّہُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی يَہُودِيَّةٍ يُبْكَی عَلَيْہَا فَقَالَ إِنَّہُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْہَا وَإِنَّہَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِہَا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عمرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کوکہتے سنااور ان سے ذکرکیا گیاتھاکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میت پرلوگوں کے رونے کی وجہ سے اُسے عذاب دیاجاتاہے (عائشہ نے کہا:) اللہ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت فرمائے۔سنو،انہوں نے جھوٹ نہیں کہا۔بلکہ ان سے بھول ہوئی ہے یا وہ چوک گئے ہیں۔بات صرف اتنی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک یہودی عورت کے پاس سے ہوا جس پر لوگ رورہے تھے۔تو آپ نے فرمایا: یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب دیاجارہاہے۔