Jamia al-Tirmidhi Hadith 1011 (سنن الترمذي)
[1011] إسنادہ ضعیف
ابو داود (3184) ابن ماجہ (1484)
یحیی بن عبد اللہ المجبر (یحییٰ بن عبداللہ التیمی): لین الحدیث (تقریب: 7581)
أبو ماجدۃ: مجہول (تقریب: 8334)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَحْيَی إِمَامِ بَنِي تَيْمِ اللہِ عَنْ أَبِي مَاجِدٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللہِ ﷺ عَنْ الْمَشْيِ خَلْفَ الْجَنَازَةِ قَالَ مَا دُونَ الْخَبَبِ فَإِنْ كَانَ خَيْرًا عَجَّلْتُمُوہُ وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَلَا يُبَعَّدُ إِلَّا أَہْلُ النَّارِ الْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ وَلَيْسَ مِنْہَا مَنْ تَقَدَّمَہَا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ لَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ قَالَ سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يُضَعِّفُ حَدِيثَ أَبِي مَاجِدٍ لِہَذَا و قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ قِيلَ لِيَحْيَی مَنْ أَبُو مَاجِدٍ ہَذَا قَالَ طَائِرٌ طَارَ فَحَدَّثَنَا وَقَدْ ذَہَبَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ إِلَی ہَذَا رَأَوْا أَنَّ الْمَشْيَ خَلْفَہَا أَفْضَلُ وَبِہِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَإِسْحَقُ قَالَ إِنَّ أَبَا مَاجِدٍ رَجُلٌ مَجْہُولٌ لَا يُعْرَفُ إِنَّمَا يُرْوَی عَنْہُ حَدِيثَانِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَيَحْيَی إِمَامُ بَنِي تَيْمِ اللہِ ثِقَةٌ يُكْنَی أَبَا الْحَارِثِ وَيُقَالُ لَہُ يَحْيَی الْجَابِرُ وَيُقَالُ لَہُ يَحْيَی الْمُجْبِرُ أَيْضًا وَہُوَ كُوفِيٌّ رَوَی لَہُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَبُو الْأَحْوَصِ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے جنازے کے پیچھے چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:ایسی چال چلے جودُلکی چال سے دھیمی ہو۔اگر وہ نیک ہے توتم اسے جلدی قبرمیں پہنچادوگے اور اگر برا ہے توجہنمیوں ہی کو دور ہٹایاجاتاہے۔جنازہ کے پیچھے چلنا چاہئے،اس سے آگے نہیں ہوناچاہئے،جو جنازہ کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ جانے والوں میں سے نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے صر ف اسی سند سے جانی جاتی ہے،۲-میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوحامد کی اس حدیث کوضعیف بتاتے سناہے،۳-محمدبن اسماعیل بخاری کا بیان ہے کہ حمیدی کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین سے پوچھاگیا: ابوماجد کو ن ہیں؟ توانہوں نے کہا: ایک اڑتی چڑیاہے جس سے ہم نے روایت کی ہے،یعنی مجہول راوی ہے۔