Jamia al-Tirmidhi Hadith 1016 (سنن الترمذي)

[1016] إسنادہ ضعیف

ابو داود (3136)

الزھري مدلس وعنعن

انوار الصحیفہ ص 215

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَی رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی حَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ فَوَقَفَ عَلَيْہِ فَرَآہُ قَدْ مُثِّلَ بِہِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِہَا لَتَرَكْتُہُ حَتَّی تَأْكُلَہُ الْعَافِيَةُ حَتَّی يُحْشَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بُطُونِہَا قَالَ ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَةٍ فَكَفَّنَہُ فِيہَا فَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَی رَأْسِہِ بَدَتْ رِجْلَاہُ وَإِذَا مُدَّتْ عَلَی رِجْلَيْہِ بَدَا رَأْسُہُ قَالَ فَكَثُرَ الْقَتْلَی وَقَلَّتْ الثِّيَابُ قَالَ فَكُفِّنَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَسْأَلُ عَنْہُمْ أَيُّہُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُہُ إِلَی الْقِبْلَةِ قَالَ فَدَفَنَہُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْہِمْ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ النَّمِرَةُ الْكِسَاءُ الْخَلَقُ وَقَدْ خُولِفَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فِي رِوَايَةِ ہَذَا الْحَدِيثِ فَرَوَی اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَيْدٍ وَرَوَی مَعْمَرٌ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنْ جَابِرٍ وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَہُ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ إِلَّا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ ہَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ حَدِيثُ اللَّيْثِ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ جَابِرٍ أَصَحُّ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ احد کے دن حمزہ (کی لاش) کے پاس آئے۔آپ اس کے پاس رُکے،آپ نے دیکھا کہ لاش کا مثلہ ۱؎ کردیاگیا ہے۔آپ نے فرمایا: اگر صفیہ (حمزہ کی بہن) اپنے دل میں برانہ مانتیں تو میں انہیں یوں ہی (دفن کیے بغیر) چھوڑدیتا یہاں تک کہ درندو پرندانہیں کھاجاتے۔پھر وہ قیامت کے دن ان کے پیٹوں سے اٹھائے جاتے،پھر آپﷺ نے نمر(ایک پرانی چادر) منگوائی اور حمزہ کو اس میں کفنایا۔جب آپ چادر ان کے سر کی طرف کھینچتے توان کے دونوں پیر کھل جاتے اور جب ان کے دونوں پیروں کی طرف کھینچتے تو سرکھل جاتا۔مقتولین کی تعدادبڑھ گئی اورکپڑے کم پڑگئے تھے،چنانچہ ایک ایک دو دو اور تین تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفنایا جاتا،پھر وہ سب ایک قبر میں دفن کردیئے جاتے۔رسول اللہ ﷺ ان کے بارے میں پوچھتے کہ ان میں کس کوقرآن زیادہ یادتھاتوآپ اسے آگے قبلہ کی طرف کردیتے،رسول اللہ ﷺ نے ان مقتولین کو دفن کیا اور ان پر صلاۃ نہیں پڑھی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-انس کی حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے انس کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں،۲-اس حدیث کی روایت میں اسامہ بن زید کی مخالفت کی گئی ہے۔لیث بن سعد بسند ابن شہاب الزہری عن عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک عن جابربن عبداللہ بن زید ۳؎ روایت کی ہے اورمعمرنے بسندزہری عن عبداللہ بن ثعلبہ عن جابر روایت کی ہے۔ہمارے علم میں سوائے اسامہ بن زید کے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے زہری کے واسطے سے انس سے روایت کی ہو،۳-میں نے محمدبن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لیث کی حدیث بسند ابن شہاب عن عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک عن جابر زیادہ صحیح ہے،۴-نمرہ: پرانی چادر کو کہتے ہیں۔