Jamia al-Tirmidhi Hadith 1047 (سنن الترمذي)

[1047]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ قَال سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ الَّذِي أَلْحَدَ قَبْرَ رَسُولِ اللہِ ﷺ أَبُو طَلْحَةَ وَالَّذِي أَلْقَی الْقَطِيفَةَ تَحْتَہُ شُقْرَانُ مَوْلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ جَعْفَرٌ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللہِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ قَال سَمِعْتُ شُقْرَانَ يَقُولُ أَنَا وَاللہِ طَرَحْتُ الْقَطِيفَةَ تَحْتَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي الْقَبْرِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ شُقْرَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَی عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ فَرْقَدٍ ہَذَا الْحَدِيثَ

عثمان بن فرقدکہتے ہیں کہ میں نے جعفربن محمدسے سناوہ اپنے باپ سے روایت کررہے تھے جس آدمی نے رسول اللہ ﷺکی قبر بغلی بنائی،وہ ابوطلحہ ہیں اور جس نے آپ کے نیچے چادر بچھائی وہ رسول اللہ ﷺ کے مولی ٰشقران ہیں،جعفر کہتے ہیں:اورمجھے عبید اللہ بن ابی رافع نے خبردی وہ کہتے ہیں کہ میں نے شقران کو کہتے سنا: اللہ کی قسم! میں نے قبر میں رسول اللہ کے نیچے چادر ۱؎ بچھائی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-شقران کی حدیث حسن غریب ہے،۲-اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔