Jamia al-Tirmidhi Hadith 1057 (سنن الترمذي)

[1057] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (1520 مختصرًا جدًا)

حجاج بن أرطاۃ ضعیف مدلس

والحدیث ضعفہ البیہقي (55/4)

وحدیث الحاکم (368/1 ح 1361،345/2 ح 3318 سندہ حسن) یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 216، 217

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ الْيَمَانِ عَنْ الْمِنْہَالِ بْنِ خَلِيفَةَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ قَبْرًا لَيْلًا فَأُسْرِجَ لَہُ سِرَاجٌ فَأَخَذَہُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَقَالَ رَحِمَكَ اللہُ إِنْ كُنْتَ لَأَوَّاہًا تَلَّاءً لِلْقُرْآنِ وَكَبَّرَ عَلَيْہِ أَرْبَعًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَيَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ وَہُوَ أَخُو زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَكْبَرُ مِنْہُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ ذَہَبَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ إِلَی ہَذَا وَقَالُوا يُدْخَلُ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ و قَالَ بَعْضُہُمْ يُسَلُّ سَلًّا وَرَخَّصَ أَكْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي الدَّفْنِ بِاللَّيْلِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ ایک قبر میں رات کو داخل ہوئے تو آپ کے لیے ایک چراغ روشن کیاگیا۔آپ نے میت کوقبلے کی طرف سے لیا۔اور فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے! تم بہت نرم دل رونے والے،اور بہت زیادہ قرآن کی تلاوت کرنے والے تھے۔اور آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابن عباس کی حدیث حسن ہے،۲-ا س باب میں جابر اور یزید بن ثابت سے بھی احادیث آئی ہیں اور یزیدبن ثابت،زید بن ثابت کے بھائی ہیں،اور ان سے بڑ ے ہیں،۳-بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ میت کو قبر میں قبلے کی طرف سے اتارا جائے گا ۱؎،۴-بعض کہتے ہیں: پائتانے کی طرف سے رکھ کر کھینچ لیں گے ۲؎،۵-اوراکثر اہل علم نے رات کودفن کرنے کی اجازت دی ہے ۳؎۔