Jamia al-Tirmidhi Hadith 1059 (سنن الترمذي)
[1059]صحیح
صحیح بخاری
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی وَہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْبَزَّازُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْہَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ وَجَبَتْ فَقُلْتُ لِعُمَرَ وَمَا وَجَبَتْ قَالَ أَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشْہَدُ لَہُ ثَلَاثَةٌ إِلَّا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّةُ قَالَ قُلْنَا وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ قَالَ وَلَمْ نَسْأَلْ رَسُولَ اللہِ ﷺ عَنْ الْوَاحِدِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الْأَسْوَدِ الدِّيلِيُّ اسْمُہُ ظَالِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ
ابوالاسود الدیلی کہتے ہیں: میں مدینے آیا،تو عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آکر بیٹھااتنے میں کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی تعریف کی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہوگئی،میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا چیز واجب ہوگئی؟تو انہوں نے کہا: میں وہی بات کہہ رہاہوں جو رسول اللہ ﷺ نے کہی ہے۔آپ نے فرمایا: جس کسی بھی مسلمان کے (نیک ہونے کی) تین آدمی گواہی دیں،اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ہم نے عرض کیا: اگر دو آدمی گواہی دیں؟ آپ نے فرمایا: دو آدمی بھی ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ایک کی گواہی کے بارے میں نہیں پوچھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔