Jamia al-Tirmidhi Hadith 1090 (سنن الترمذي)
[1090]صحیح
صحیح بخاری
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ قَالَتْ جَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَدَخَلَ عَلَيَّ غَدَاةَ بُنِيَ بِي فَجَلَسَ عَلَی فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي وَجُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِدُفُوفِہِنَّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَی أَنْ قَالَتْ إِحْدَاہُنَّ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ اسْكُتِي عَنْ ہَذِہِ وَقُولِي الَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ قَبْلَہَا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:جس رات میری شادی اس کی صبح رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے۔آپ میرے بستر پر ایسے ہی بیٹھے،جیسے تم (خالد بن ذکوان) میرے پاس بیٹھے ہو۔اور چھوٹی چھوٹی بچیاں دف بجارہی تھیں اور جو ہمارے باپ دادا میں سے جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے ان کا مرثیہ گارہی تھیں،یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: ہمارے درمیان ایک نبی ہے جوان چیزوں کو جانتاہے جوکل ہوں گی،تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:یہ نہ کہہ۔وہی کہہ جو پہلے کہہ رہی تھی۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔