Jamia al-Tirmidhi Hadith 1107 (سنن الترمذي)
[1107]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّی تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّی تُسْتَأْذَنَ وَإِذْنُہَا الصُّمُوتُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَالْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي ہُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الثَّيِّبَ لَا تُزَوَّجُ حَتَّی تُسْتَأْمَرَ وَإِنْ زَوَّجَہَا الْأَبُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْتَأْمِرَہَا فَكَرِہَتْ ذَلِكَ فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ عِنْدَ عَامَّةِ أَہْلِ الْعِلْمِ وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِي تَزْوِيجِ الْأَبْكَارِ إِذَا زَوَّجَہُنَّ الْآبَاءُ فَرَأَی أَكْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَہْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِہِمْ أَنَّ الْأَبَ إِذَا زَوَّجَ الْبِكْرَ وَہِيَ بَالِغَةٌ بِغَيْرِ أَمْرِہَا فَلَمْ تَرْضَ بِتَزْوِيجِ الْأَبِ فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْمَدِينَةِ تَزْوِيجُ الْأَبِ عَلَی الْبِكْرِ جَائِزٌ وَإِنْ كَرِہَتْ ذَلِكَ وَہُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ثیبہ (شوہردیدہ عورت خواہ بیوہ ہو یا مطلقہ) کانکاح نہ کیاجائے جب تک کہ اس کی رضامندی ۱؎ حاصل نہ کرلی جائے،اور کنواری ۲؎ عورت کانکاح نہ کیاجائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور اس کی اجازت خاموشی ہے ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں عمر،ابن عباس،عائشہ اورعرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اہل علم کااسی پرعمل ہے کہ ثیّبہ(شوہر دیدہ) کانکاح اس کی رضامندی حاصل کیے بغیر نہیں کیا جائے گا۔اگر اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی رضامندی کے بغیر کردی اور اسے وہ ناپسند ہوتو تمام اہل علم کے نزدیک وہ نکاح منسوخ ہوجائے گا،۴-کنواری لڑکیوں کے باپ ان کی شادی ان کی اجازت کے بغیر کردیں تواہل علم کااختلاف ہے۔کوفہ وغیرہ کے اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ باپ اگر کنواری لڑکی کی شادی اس کی اجازت کے بغیرکردے اور وہ بالغ ہو اور پھروہ اپنے والد کی شادی پر راضی نہ ہو تو نکاح منسوخ ہوجائے گا ۴؎،۵-اور بعض اہل مدینہ کہتے ہیں کہ کنواری کی شادی اگر باپ نے کردی ہوتو درست ہے گووہ اسے ناپسندہو،یہ مالک بن انس،شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۵؎۔