Jamia al-Tirmidhi Hadith 1110 (سنن الترمذي)
[1110]حسن
مشکوۃ المصابیح (3156)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَہَا وَلِيَّانِ فَہِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْہُمَا وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَہُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْہُمَا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَہُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافًا إِذَا زَوَّجَ أَحَدُ الْوَلِيَّيْنِ قَبْلَ الْآخَرِ فَنِكَاحُ الْأَوَّلِ جَائِزٌ وَنِكَاحُ الْآخَرِ مَفْسُوخٌ وَإِذَا زَوَّجَا جَمِيعًا فَنِكَاحُہُمَا جَمِيعًا مَفْسُوخٌ وَہُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت کی شادی دو ولی الگ الگ جگہ کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کے لیے ہوگی،اورجو شخص کوئی چیز دوآدمیوں سے بیچ دے تو وہ بھی ان میں سے پہلے کی ہوگی۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن ہے،۲-اہل علم کا اسی پرعمل ہے۔اس سلسلے میں ہمیں علماء کے درمیان کسی اختلاف کاعلم نہیں ہے۔دو ولی میں سے ایک ولی جب دوسرے سے پہلے شادی کردے تو پہلے کانکاح جائز ہوگا،اور دوسرے کا نکاح فسخ قراردیاجائے گا،اور جب دونوں نے ایک ساتھ نکاح (دوالگ الگ شخصوں سے) کیا ہوتو دونوں کانکاح فسخ ہوجائے گا۔یہی ثوری،احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔