Jamia al-Tirmidhi Hadith 1122 (سنن الترمذي)

[1122] إسنادہ ضعیف

موسی بن عبیدۃ: ضعیف ولا سیما في عبد اللہ بن دینار وکان عابدًا (تقریب: 6989)

انوار الصحیفہ ص 219

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا كَانَتْ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ لَيْسَ لَہُ بِہَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَی أَنَّہُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَہُ مَتَاعَہُ وَتُصْلِحُ لَہُ شَيْئَہُ حَتَّی إِذَا نَزَلَتْ الْآيَةُ إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِہِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُہُمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَی ہَذَيْنِ فَہُوَ حَرَامٌ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ متعہ ابتدائے اسلام میں تھا۔آدمی جب کسی ایسے شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ اپنے قیام کی مدّت تک کے لیے کسی عورت سے شادی کرلیتا۔وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی۔اس کی چیزیں درست کرکے رکھتی۔یہاں تک کہ جب آیت کریمہ إِلاَّ عَلَی أَزْوَاجِہِمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ (لوگ اپنی شرمگاہوں کو صرف دوہی جگہ کھول سکتے ہیں،ایک اپنی بیویوں پر،دوسرے اپنی ماتحت لونڈیوں پر) نازل ہوئی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ان دوکے علاوہ باقی تمام شرمگاہیں حرام ہوگئیں۔