Jamia al-Tirmidhi Hadith 1128 (سنن الترمذي)

[1128]حسن

ولہ شاھد حسن عند البیہقی (7/ 183 ح 14428) والدارقطنی (3/ 271۔272 ح 3652) وغیرھما

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَلَہُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاہِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَہُ فَأَمَرَہُ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يَتَخَيَّرَ أَرْبَعًا مِنْہُنَّ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَكَذَا رَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ ہَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَی شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَغَيْرُہُ عَنْ الزُّہْرِيِّ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ أَسْلَمَ وَعِنْدَہُ عَشْرُ نِسْوَةٍ قَالَ مُحَمَّدٌ وَإِنَّمَا حَدِيثُ الزُّہْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ طَلَّقَ نِسَاءَہُ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ أَوْ لَأَرْجُمَنَّ قَبْرَكَ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَالْعَمَلُ عَلَی حَدِيثِ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ عِنْدَ أَصْحَابِنَا مِنْہُمْ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ۱؎ ثقفی نے اسلام قبول کیا،جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں،وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں،تو نبی اکرمﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چارکومنتخب کر لیں ۲؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-اسی طرح اسے معمر نے بسند الزہری عن سالم بن عبداللہ عن ابن عمر روایت کیا ہے،۲-میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کوکہتے سناکہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔اورصحیح وہ ہے جو شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ نے بسند الزہری عن محمد بن سوید الثقفی روایت کی ہے کہ غیلان بن سلمہ نے اسلام قبول کیاتوان کے پاس دس بیویاں تھیں۔محمدبن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ صحیح زہری کی حدیث ہے جسے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمرسے روایت کی ہے کہ ثقیف کے ایک شخص نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو عمر نے اس سے کہا: تم اپنی بیویوں سے رجوع کرلو ورنہ میں تمہاری قبر کو پتھر ماروں گا جیسے ابورغال ۳؎ کی قبر کوپتھر مارے گئے تھے۔۴-ہمارے اصحاب جن میں شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی شامل ہیں کے نزدیک غیلان بن سلمہ کی حدیث پر عمل ہے۔