Jamia al-Tirmidhi Hadith 1135 (سنن الترمذي)
[1135]صحیح
صحیح مسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَہْمِ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا ثَلَاثًا وَلَمْ يَجْعَلْ لَہَا سُكْنَی وَلَا نَفَقَةً قَالَتْ وَوَضَعَ لِي عَشَرَةَ أَقْفِزَةٍ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لَہُ خَمْسَةً شَعِيرًا وَخَمْسَةً بُرًّا قَالَتْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَہُ قَالَتْ فَقَالَ صَدَقَ قَالَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ بَيْتَ أُمِّ شَرِيكٍ بَيْتٌ يَغْشَاہُ الْمُہَاجِرُونَ وَلَكِنْ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَعَسَی أَنْ تُلْقِي ثِيَابَكِ وَلَا يَرَاكِ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَجَاءَ أَحَدٌ يَخْطُبُكِ فَآذِنِينِي فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي خَطَبَنِي أَبُو جَہْمٍ وَمُعَاوِيَةُ قَالَتْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَہُ فَقَالَ أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَہُ وَأَمَّا أَبُو جَہْمٍ فَرَجُلٌ شَدِيدٌ عَلَی النِّسَاءِ قَالَتْ فَخَطَبَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَتَزَوَّجَنِي فَبَارَكَ اللہُ لِي فِي أُسَامَةَ ہَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاہُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَہْمِ نَحْوَ ہَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيہِ فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ انْكِحِي أُسَامَةَ حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَہْمِ بِہَذَا
ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں: میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن دونوں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آئے انہوں نے ہم سے بیان کیاکہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی اورنہ ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا اور نہ کھانے پینے کا۔اور انہوں نے میرے لیے دس بوری غلّہ،پانچ بوری جو کے اور پانچ گیہوں کے اپنے چچازادبھائی کے پاس رکھ دیں،تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر آپ سے اس کا ذکر کیا،توآپ نے فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا،اور مجھے آپ نے حکم دیا کہ میں ام شریک کے گھر میں عدت گزاروں،پھر مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ام شریک کے گھر مہاجرین آتے جاتے رہتے ہیں۔تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو۔وہاں یہ بھی سہولت رہے گی کہ تم (سروغیرہ سے)کپڑے اتاروگی تو تمہیں وہ نہیں دیکھ پائیں گے،پھر جب تمہاری عدت پوری ہوجائے اور کوئی تمہارے پاس پیغام نکاح لے کر آئے تو مجھے بتانا،چنانچہ جب میری عدت پوری ہوگئی تو ابوجہم اور معاویہ نے مجھے پیغام بھیجا۔میں نے رسول اللہ ﷺ کے پا س آکرآپ سے اس کا ذکر کیاتو آپ نے فرمایا: معاویہ توایسے آدمی ہیں کہ ان کے پاس مال نہیں،اور ابوجہم عورتوں کے لیے سخت واقع ہوئے ہیں۔پھر مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا اور مجھ سے شادی کرلی۔اللہ تعالیٰ نے اسامہ میں مجھے برکت عطافرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث صحیح ہے،۲-اسے سفیان ثوری نے بھی ابوبکر بن ابی جہم سے اسی حدیث کی طرح روایت کیا ہے،اور اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ مجھ سے نبی اکرمﷺ نے فرمایا:تم اسامہ سے نکاح کرلو۔