Jamia al-Tirmidhi Hadith 1143 (سنن الترمذي)

[1143] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (2240) ابن ماجہ (2009)

انوار الصحیفہ ص 219

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَدَّ النَّبِيُّ ﷺ ابْنَتَہُ زَيْنَبَ عَلَی أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ نِكَاحًا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِإِسْنَادِہِ بَأْسٌ وَلَكِنْ لَا نَعْرِفُ وَجْہَ ہَذَا الْحَدِيثِ وَلَعَلَّہُ قَدْ جَاءَ ہَذَا مِنْ قِبَلِ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِہِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس چھ سال بعد ۱؎ پہلے نکاح ہی پر واپس بھیج دیا اور پھر سے نکاح نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ہے،لیکن ہم اس حدیث میں نقد کی وجہ نہیں جانتے ہیں۔شاید یہ چیز داود بن حصین کی جانب سے ان کے حفظ کی طرف سے آئی ہے۔