Jamia al-Tirmidhi Hadith 1142 (سنن الترمذي)
[1142] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (2010)
حجاج بن أرطاۃ ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَہَنَّادٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْحَجَّاجِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ رَدَّ ابْنَتَہُ زَيْنَبَ عَلَی أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ بِمَہْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِہِ مَقَالٌ وَفِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ أَيْضًا مَقَالٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَسْلَمَتْ قَبْلَ زَوْجِہَا ثُمَّ أَسْلَمَ زَوْجُہَا وَہِيَ فِي الْعِدَّةِ أَنَّ زَوْجَہَا أَحَقُّ بِہَا مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ وَہُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی لڑکی زینب کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس نئے مہر اورنئے نکاح کے ذریعے لوٹادیا ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-اس حدیث کی سند میں کچھ کلام ہے اوردوسری حدیث میں بھی کلام ہے،۲-اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ عورت جب شوہر سے پہلے اسلام قبول کرلے،پھر اس کا شوہر عدت کے دوران اسلام لے آئے تو اس کا شوہر ہی اس کا زیادہ حق دار ہے جب وہ عدت میں ہو۔یہی مالک بن انس،اوزاعی،شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔