Jamia al-Tirmidhi Hadith 1153 (سنن الترمذي)
[1153]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (3174)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ مَا يُذْہِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ فَقَالَ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ہَكَذَا رَوَاہُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَحَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَرَوَی سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي حَجَّاجٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَی ہَؤُلَاءِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ وَہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ يُكْنَی أَبَا الْمُنْذِرِ وَقَدْ أَدْرَكَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللہِ وَابْنَ عُمَرَ وَمَعْنَی قَوْلِہِ مَا يُذْہِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ يَقُولُ إِنَّمَا يَعْنِي بِہِ ذِمَامَ الرَّضَاعَةِ وَحَقَّہَا يَقُولُ إِذَا أَعْطَيْتَ الْمُرْضِعَةَ عَبْدًا أَوْ أَمَةً فَقَدْ قَضَيْتَ ذِمَامَہَا وَيُرْوَی عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ إِذْ أَقْبَلَتْ امْرَأَةٌ فَبَسَطَ النَّبِيُّ ﷺ رِدَاءَہُ حَتَّی قَعَدَتْ عَلَيْہِ فَلَمَّا ذَہَبَتْ قِيلَ ہِيَ كَانَتْ أَرْضَعَتْ النَّبِيَّ ﷺ
حجاج اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے پوچھاکہ اللہ کے رسول! مجھ سے حق رضاعت کس چیزسے اداہوگا؟ آپ نے فرمایا: ایک جان: غلام یا لونڈی کے ذریعہ سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-اسی طرح اِسے یحیی بن سعید قطان،حاتم بن اسماعیل اور کئی لوگوں نے بطریق: ہشام بن عروۃ،عن أبیہ عروۃ،عن حجاج بن حجاج،عن أبیہ،عن النبی ﷺروایت کی ہے۔ اور سفیان بن عیینہ نے بطریق: ہشام بن عروۃ،عن أبیہ عروۃ،عن حجاج بن أبی حجاج،عن أبیہ أبی حجاج،عن النبی ﷺ روایت کی ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے۔صحیح وہی ہے جسے ان لوگوں نے ہشام بن عروۃ سے اورانہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔(یعنی: حجاج بن حجاج والی نہ کہ حجاج بن أبی حجاج والی)۳-اور مایذہب عنی مذمۃ الرضاعۃ سے مراد رضاعت کاحق اور اس کا ذمہ ہے۔وہ کہتے ہیں: جب تم دودھ پلانے والی کو ایک غلام دے دو،یا ایک لونڈی تو تم نے اس کا حق اداکردیا،۴-ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔اتنے میں ایک عورت آئی تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر بچھادی،یہاں تک کہ وہ اس پر بیٹھ گئی،جب وہ چلی گئی تو کہاگیا:یہی وہ عورت تھی جس نے نبی اکرم ﷺکو دودھ پلایا تھا۔