Jamia al-Tirmidhi Hadith 1177 (سنن الترمذي)

[1177] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (2208) ابن ماجہ (2051)

انوار الصحیفہ ص 220

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِيَ الْبَتَّةَ فَقَالَ مَا أَرَدْتَ بِہَا قُلْتُ وَاحِدَةً قَالَ وَاللہِ قُلْتُ وَاللہِ قَالَ فَہُوَ مَا أَرَدْتَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ ہَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ فِيہِ اضْطِرَابٌ وَيُرْوَی عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلَاثًا وَقَدْ اخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ فِي طَلَاقِ الْبَتَّةِ فَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّہُ جَعَلَ الْبَتَّةَ وَاحِدَةً وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّہُ جَعَلَہَا ثَلَاثًا و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِيہِ نِيَّةُ الرَّجُلِ إِنْ نَوَی وَاحِدَةً فَوَاحِدَةٌ وَإِنْ نَوَی ثَلَاثًا فَثَلَاثٌ وَإِنْ نَوَی ثِنْتَيْنِ لَمْ تَكُنْ إِلَّا وَاحِدَةً وَہُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَأَہْلِ الْكُوفَةِ و قَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي الْبَتَّةِ إِنْ كَانَ قَدْ دَخَلَ بِہَا فَہِيَ ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ و قَالَ الشَّافِعِيُّ إِنْ نَوَی وَاحِدَةً فَوَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ وَإِنْ نَوَی ثِنْتَيْنِ فَثِنْتَانِ وَإِنْ نَوَی ثَلَاثًا فَثَلَاثٌ

رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کے پاس آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتّہ)د ی ہے۔آپ نے فرمایا: تم نے اس سے کیا مرادلی تھی؟،میں نے عرض کیا: ایک طلاق مرادلی تھی،آپ نے پوچھا: اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم!آپ نے فرمایا:تویہ اتنی ہی ہے جتنی کاتم نے ارادہ کیاتھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں،۲-میں نے محمدبن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا توانہوں نے کہا:ـ اس میں اضطراب ہے،عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس کہتے ہیں رکانہ نے اپنی بیوی کوتین طلاقیں دی تھیں،۳-اہل علم صحابہ کرام وغیرہم میں سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے طلاق بتّہ کو ایک طلاق قراردی ہے،۴-اور علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے اسے تین طلاق قراردی ہے،۵-بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں آدمی کی نیت کا اعتبار ہوگا۔اگر اس نے ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہوگی اور اگر تین کی کی ہے تو تین ہو گی۔اور اگر اس نے دو کی نیت کی ہے تو صرف ایک شمار ہوگی۔یہی ثوری اور اہل کوفہ کاقول ہے،۶-مالک بن انس قطعی طلاق(بتّہ) کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر عورت ایسی ہے کہ اس کے ساتھ دخول ہوچکاہے توطلاق بتّہ تین طلاق شمار ہوگی،۷-شافعی کہتے ہیں: اگراس نے ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہوگی او ر اسے رجعت کا اختیار ہوگا۔اگر دوکی نیت کی ہے تو دو ہوگی اوراگر تین کی نیت کی ہے تو تین شمار ہوگی۔