Jamia al-Tirmidhi Hadith 1178 (سنن الترمذي)

[1178] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (2204،2205) نسائي (3439)

انوار الصحیفہ ص 220

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ لِأَيُّوبَ ہَلْ عَلِمْتَ أَنَّ أَحَدًا قَالَ فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ إِنَّہَا ثَلَاثٌ إِلَّا الْحَسَنَ فَقَالَ لَا إِلَّا الْحَسَنَ ثُمَّ قَالَ اللہُمَّ غَفْرًا إِلَّا مَا حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَی بَنِي سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ ثَلَاثٌ قَالَ أَيُّوبُ فَلَقِيتُ كَثِيرًا مَوْلَی بَنِي سَمُرَةَ فَسَأَلْتُہُ فَلَمْ يَعْرِفْہُ فَرَجَعْتُ إِلَی قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ نَسِيَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ ہَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ بِہَذَا وَإِنَّمَا ہُوَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ مَوْقُوفٌ وَلَمْ يُعْرَفْ حَدِيثُ أَبِي ہُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ حَافِظًا صَاحِبَ حَدِيثٍ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ فَقَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ مِنْہُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ ہِيَ وَاحِدَةٌ وَہُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَہُمْ و قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ و قَالَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا جَعَلَ أَمْرَہَا بِيَدِہَا وَطَلَّقَتْ نَفْسَہَا ثَلَاثًا وَأَنْكَرَ الزَّوْجُ وَقَالَ لَمْ أَجْعَلْ أَمْرَہَا بِيَدِہَا إِلَّا فِي وَاحِدَةٍ اسْتُحْلِفَ الزَّوْجُ وَكَانَ الْقَوْلُ قَوْلَہُ مَعَ يَمِينِہِ وَذَہَبَ سُفْيَانُ وَأَہْلُ الْكُوفَةِ إِلَی قَوْلِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللہِ وَأَمَّا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فَقَالَ الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ وَہُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَأَمَّا إِسْحَقُ فَذَہَبَ إِلَی قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ

حماد بن زیدکا بیان ہے کہ میں نے ایوب (سختیانی) سے پوچھا: کیا آپ حسن بصری کے علاوہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں،جس نے أمرک بیدک کے سلسلہ میں کہاہو کہ یہ تین طلاق ہے؟ انہوں نے کہا: حسن بصری کے۔علاوہ مجھے کسی اورکاعلم نہیں،پھر انہوں نے کہا: اللہ!معاف فرمائے۔ہاں وہ روایت ہے جو مجھ سے قتادہ نے بسند کثیرمولیٰ بنی سمرہ عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ روایت کی ہے کہ نبی اکرمﷺ آپ نے فرمایا: یہ تین طلاقیں ہیں۔ ایوب کہتے ہیں: پھرمیں کثیرمولیٰ بنی سمرہ سے ملاتو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا مگروہ اسے نہیں جان سکے۔پھر میں قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا: وہ بھول گئے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث غریب ہے،۲-ہم اسے صرف سلیمان بن حرب ہی کی روایت سے جانتے ہیں انہوں نے اسے حماد بن زید سے روایت کیا ہے،۳-میں نے اس حدیث کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا توانہوں نے کہا: ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا انہوں نے اسے حماد بن زید سے روایت کیا ہے اور یہ ابوہریرہ سے موقوفاً مروی ہے،اوروہ ابوہریرہ کی حدیث کومرفوع نہیں جان سکے،۴-اہل علم کا أمرک بیدک کے سلسلے میں اختلاف ہے،بعض صحابہ کرام وغیرہم جن میں عمربن خطاب،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بھی ہیں کہتے ہیں کہ یہ ایک (طلاق) ہوگی۔اوریہی تابعین اوران کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا بھی قول ہے،۵-عثمان بن عفان اور زید بن ثابت کہتے ہیں کہ فیصلہ وہ ہوگا جو عورت کہے گی،۶-ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب شوہرکہے کہ اس کا معاملہ اس (عورت) کے ہاتھ میں ہے،اور عورت خود سے تین طلاق قراردے لے۔اورشوہرانکارکرے اور کہے: میں نے صرف ایک طلاق کے سلسلہ میں کہاتھاکہ اس کا معاملہ اس کے ہاتھ میں ہے تو شوہر سے قسم لی جائے گی اور شوہر کاقول اس کی قسم کے ساتھ معتبر ہوگا،۷-سفیان اور اہل کوفہ عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے قول کی طرف گئے ہیں،۸-اور مالک بن انس کاکہنا ہے کہ فیصلہ وہ ہوگا جوعورت کہے گی،یہی احمد کابھی قول ہے،۹-اوررہے اسحاق بن راہویہ تو وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کی طرف گئے ہیں۔