Jamia al-Tirmidhi Hadith 1200 (سنن الترمذي)
[1200]حسن
مشکوۃ المصابیح (3299)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنْبَأَنَا ہَارُونُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الْخَزَّازُ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ أَنْبَأَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيَّ أَحَدَ بَنِي بَيَاضَةَ جَعَلَ امْرَأَتَہُ عَلَيْہِ كَظَہْرِ أُمِّہِ حَتَّی يَمْضِيَ رَمَضَانُ فَلَمَّا مَضَی نِصْفٌ مِنْ رَمَضَانَ وَقَعَ عَلَيْہَا لَيْلًا فَأَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَہُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ لَا أَجِدُہَا قَالَ فَصُمْ شَہْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ لَا أَجِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِفَرْوَةَ بْنِ عَمْرٍو أَعْطِہِ ذَلِكَ الْعَرَقَ وَہُوَ مِكْتَلٌ يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ يُقَالُ سَلْمَانُ بْنُ صَخْرٍ وَيُقَالُ سَلَمَةُ بْنُ صَخْرٍ الْبَيَاضِيُّ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي كَفَّارَةِ الظِّہَارِ
ابوسلمہ اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان کا بیان ہے کہ سلمان بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ نے جوبنی بیاضہ کے ایک فر دہیں اپنی بیوی کواپنے اوپرمکمل ماہِ رمضان تک اپنی ماں کی پشت کی طرح(حرام) قراردے لیا۔تو جب آدھا رمضان گزرگیا توایک رات وہ اپنی بیوی سے جماع کربیٹھے،پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اورآپ سے اس کا ذکر کیا،تو آپﷺ نے ان سے فرمایا:تم ایک غلام آزاد کرو،انہوں نے کہا: مجھے یہ میسرنہیں۔آپ نے فرمایا: پھردوماہ کا مسلسل صوم رکھو،انہوں نے کہا: میں اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتاتوآپ نے فرمایا: ساٹھ مسکین کو کھانا کھلاؤ،انہوں نے کہا:میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا،تو آپﷺ نے فروۃ بن عمرو سے فرمایا: اسے یہ کھجوروں کا ٹوکرا دے دو تاکہ یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلادے،عرق ایک پیمانہ ہے جس میں پندرہ صاع یاسولہ صاع غلہ آتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن ہے،۲-سلمان بن صخرکوسلمہ بن صخربیاضی بھی کہاجاتاہے۔۳-ظہارکے کفارے کے سلسلے میں اہل علم کا اسی پرعمل ہے۔