Jamia al-Tirmidhi Hadith 1201 (سنن الترمذي)
[1201] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (2072)
سلمۃ بن علقمۃ صدوق،روی عن داود أحادیث مناکیر،عندالجمہور (انظر تہذیب التہذیب 145/10)
والمرسل أصح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ أَنْبَأَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ آلَی رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ نِسَائِہِ وَحَرَّمَ فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلَالًا وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَأَبِي مُوسَی قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ دَاوُدَ رَوَاہُ عَلِيُّ بْنُ مُسْہِرٍ وَغَيْرُہُ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مُرْسَلًا وَلَيْسَ فِيہِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ وَہَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ وَالْإِيلَاءُ ہُوَ أَنْ يَحْلِفَ الرَّجُلُ أَنْ لَا يَقْرَبَ امْرَأَتَہُ أَرْبَعَةَ أَشْہُرٍ فَأَكْثَرَ وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِيہِ إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْہُرٍ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْہُرٍ يُوقَفُ فَإِمَّا أَنْ يَفِيءَ وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ وَہُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْہُرٍ فَہِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَہْلِ الْكُوفَةِ
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایلاء ۱؎ کیا اور (ان سے صحبت کرنا اپنے اوپر)حرام کرلیا۔پھر آپ نے حرام کو حلال کرلیا اور قسم کا کفارہ اداکردیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-مسلمہ بن علقمہ کی حدیث کوجسے انہوں نے داودسے روایت کی ہے: علی بن مسہر وغیرہ نے بھی داودسے (روایت کی ہے مگر) داودنے شعبی سے مرسلاً روایت کی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ایلاء کیا۔اس میں مسروق اورعائشہ کے واسطے کاذکرنہیں ہے،اوریہ مسلمہ بن علقمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے،۲-اس باب میں انس اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ایلاء یہ ہے کہ آدمی چارماہ یا اس سے زیادہ دنوں تک اپنی بیوی کے قریب نہ جانے کی قسم کھالے،۳-جب چارماہ گزرجائیں تو اس میں علماء کا اختلاف ہے۔صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب چارماہ گزرجائیں تواسے قاضی کے سامنے کھڑا کیاجائے گا،یا تورجوع کرلے یا طلاق دے دے۔۴-صحابہ کرام وغیرہم میں بعض اہل علم کاکہناہے کہ جب چارماہ گزرجائیں توایک طلاق بائن خودبخود پڑجاتی ہے۔سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔