Jamia al-Tirmidhi Hadith 1205 (سنن الترمذي)
[1205]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِہَاتٌ لَا يَدْرِي كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ أَمِنْ الْحَلَالِ ہِيَ أَمْ مِنْ الْحَرَامِ فَمَنْ تَرَكَہَا اسْتِبْرَاءً لِدِينِہِ وَعِرْضِہِ فَقَدْ سَلِمَ وَمَنْ وَاقَعَ شَيْئًا مِنْہَا يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ كَمَا أَنَّہُ مَنْ يَرْعَی حَوْلَ الْحِمَی يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَہُ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللہِ مَحَارِمُہُ حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَہُ بِمَعْنَاہُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاہُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور اس کے درمیان بہت سی چیزیں شبہ والی ہیں ۱؎ جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں کہ یہ حلال کے قبیل سے ہیں یا حرام کے۔تو جس نے اپنے دین کو پاک کرنے اوراپنی عزت بچانے کے لیے انہیں چھوڑے رکھا تو وہ مامون رہا اور جو ان میں سے کسی میں پڑگیا یعنی انہیں اختیارکرلیاتوقریب ہے کہ وہ حرام میں مبتلاہوجائے،جیسے وہ شخص جوسرکاری چراگاہ کے قریب (اپنا جانور) چرارہاہو،قریب ہے کہ وہ اس میں واقع ہوجائے،جان لوکہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔دوسری سند سے مؤلف نے شعبی سے اورانہوں نے نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے،اسے کئی رواۃنے شعبی سے اورشعبی نے نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے۔