Jamia al-Tirmidhi Hadith 123 (سنن الترمذي)
[123] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (580)
حریث بن أبي مطر: ضعیف کما فی التقریب (1182)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حُرَيْثٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رُبَّمَا اغْتَسَلَ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ الْجَنَابَةِ ثُمَّ جَاءَ فَاسْتَدْفَأَ بِي فَضَمَمْتُہُ إِلَيَّ وَلَمْ أَغْتَسِلْ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِإِسْنَادِہِ بَأْسٌ وَہُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ وَالتَّابِعِينَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا اغْتَسَلَ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَسْتَدْفِئَ بِامْرَأَتِہِ وَيَنَامَ مَعَہَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ وَبِہِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بسااوقات نبی اکرم ﷺجنابت کا غسل فرماتے پھرآکرمجھ سے گرمی حاصل کرتے تو میں آپ کو چمٹا لیتی،اورمیں بغیرغسل کے ہوتی تھی۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-اس حدیث کی سند میں کوئی اشکالنہیں ۱؎،۲-صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے کہ مرد جب غسل کرلے تو اپنی بیوی سے چمٹ کرگرمی حاصل کرنے میں اسے کوئی مضائقہ نہیں،وہ عورت کے غسل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ (چمٹ کر) سوسکتاہے،سفیان ثوری،شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔