Jamia al-Tirmidhi Hadith 1242 (سنن الترمذي)
[1242]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (2871)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ فَآخُذُ مَكَانَہَا الْوَرِقَ وَأَبِيعُ بِالْوَرِقِ فَآخُذُ مَكَانَہَا الدَّنَانِيرَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَوَجَدْتُہُ خَارِجًا مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِہِ بِالْقِيمَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُہُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَی دَاوُدُ بْنُ أَبِي ہِنْدٍ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا بَأْسَ أَنْ يَقْتَضِيَ الذَّہَبَ مِنْ الْوَرِقِ وَالْوَرِقَ مِنْ الذَّہَبِ وَہُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَقَدْ كَرِہَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ ذَلِكَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بقیع کے بازار میں اونٹ بیچا کرتاتھا،میں دیناروں سے بیچتا تھا،اس کے بدلے چاندی لیتا تھا،اور چاندی سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتاتھا،میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اورمیں نے آپ کو دیکھاکہ آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکل رہے ہیں تو میں نے آپ سے اس کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا: قیمت کے ساتھ ایساکرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ہم اس حدیث کو صرف سماک بن حرب ہی کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں،۲-سماک نے اسے سعید بن جبیر سے اورسعید نے ابن عمرسے روایت کی ہے اورداود بن أبی ھند نے یہ حدیث سعید بن جبیرسے اورسعیدنے ابن عمرسے موقوفاً روایت کی ہے،۳-بعض اہل علم کاعمل اسی حدیث پر ہے کہ اگر کوئی سوناکے بدلے چاندی لے یا چاندی کے بدلے سونا لے،تو کوئی حرج نہیں ہے۔یہی احمد اوراسحاق کا بھی قول ہے،۴-اورصحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اسے مکروہ جانا ہے۔