Jamia al-Tirmidhi Hadith 1243 (سنن الترمذي)
[1243]بخاری ومسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّہُ قَالَ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاہِمَ فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللہِ وَہُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَرِنَا ذَہَبَكَ ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَادِمُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ فَقَالَ عُمَرُ كَلَّا وَاللہِ لَتُعْطِيَنَّہُ وَرِقَہُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْہِ ذَہَبَہُ فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ الْوَرِقُ بِالذَّہَبِ رِبًا إِلَّا ہَاءَ وَہَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا ہَاءَ وَہَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا ہَاءَ وَہَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا ہَاءَ وَہَاءَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ وَمَعْنَی قَوْلِہِ إِلَّا ہَاءَ وَہَاءَ يَقُولُ يَدًا بِيَدٍ
مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں(بازار میں) یہ کہتے ہوئے آیا: درہموں کو (دینار وغیرہ سے) کون بدلے گا؟ توطلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہااور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے: ہمیں اپنا سونا دکھاؤ،اور جب ہمارا خادم آجائے تو ہمارے پاس آجاؤ ہم (اس کے بدلے) تمہیں چاندی دے دیں گے۔(یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہرگزنہیں ہوسکتا تم اسے چاندی ہی دو ورنہ اس کا سونا ہی لوٹا دو،اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے: سونے کے بدلے چاندی لینا سودہے،الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو،دوسرے ہاتھ سے لو ۱؎،گیہوں کے بدلے گیہوں لینا سود ہے،الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو،دوسرے ہاتھ سے لو،جو کے بدلے جو لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو،دوسرے ہاتھ سے لو،اور کھجور کے بدلے کھجور لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو،دوسرے ہاتھ سے لو۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ إلاھاء وھاء کا مفہوم ہے نقدانقد۔