Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 125 (سنن الترمذي)

[125]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدَةُ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْہُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ قَالَ لَا إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِہِ وَقَالَ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّی يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَہُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ وَبِہِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكٌ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ إِذَا جَاوَزَتْ أَيَّامَ أَقْرَائِہَا اغْتَسَلَتْ وَتَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلَاةٍ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکرکہا: اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ مجھے استحاضہ کاخون ۱؎ آتا ہے تو میں پاک ہی نہیں رہ پاتی،کیا میں صلاۃ چھوڑدوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں،یہ تو ایک رگ ہے حیض نہیں ہے،جب حیض آئے تو صلاۃ چھوڑدو۔اور جب وہ چلاجائے (یعنی حیض کے دن پورے ہوجائیں)تو خون دھوکر (غسل کرکے) صلاۃ پڑھو،ابومعاویہ کی روایت میں ہے ؛ آپﷺ نے فرمایا:ہر صلاۃ کے لیے وضو کرو یہاں تک کہ وہ وقت (حیض کاوقت) آجائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے۔۳-صحابہ کرام اور تابعین میں بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے،اور یہی سفیان ثوری،مالک،ابن مبارک اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں کہ جب مستحاضہ عورت کے حیض کے دن گزرجائیں تووہ غسل کرے اور ہرصلاۃ کے لئے (تازہ) وضو کرے۔