Jamia al-Tirmidhi Hadith 1253 (سنن الترمذي)
[1253]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ أَنَّہُ بَاعَ مِنْ النَّبِيِّ ﷺ بَعِيرًا وَاشْتَرَطَ ظَہْرَہُ إِلَی أَہْلِہِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْہٍ عَنْ جَابِرٍ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ يَرَوْنَ الشَّرْطَ فِي الْبَيْعِ جَائِزًا إِذَا كَانَ شَرْطًا وَاحِدًا وَہُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ لَا يَجُوزُ الشَّرْطُ فِي الْبَيْعِ وَلَا يَتِمُّ الْبَيْعُ إِذَا كَانَ فِيہِ شَرْطٌ
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے (راستے میں) نبی اکرمﷺسے ایک اونٹ بیچا اور اپنے گھر والوں تک سوار ہوکر جانے کی شرط رکھی لگائی ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-یہ اوربھی سندوں سے جابر سے مروی ہے،۳-صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پرعمل ہے۔یہ لوگ بیع میں شرط کو جائز سمجھتے ہیں جب شرط ایک ہو۔یہی قول احمد اوراسحاق بن راہویہ کا ہے،۴-اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ بیع میں شرط جائز نہیں ہے اور جب اس میں شرط ہوتو بیع تام نہیں ہوگی۔