Jamia al-Tirmidhi Hadith 1264 (سنن الترمذي)
[1264] إسنادہ ضعیف
سنن أبي داود (3535)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ عَنْ شَرِيكٍ وَقَيْسٌ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَی مَنْ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ ذَہَبَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ إِلَی ہَذَا الْحَدِيثِ وَقَالُوا إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَلَی آخَرَ شَيْءٌ فَذَہَبَ بِہِ فَوَقَعَ لَہُ عِنْدَہُ شَيْءٌ فَلَيْسَ لَہُ أَنْ يَحْبِسَ عَنْہُ بِقَدْرِ مَا ذَہَبَ لَہُ عَلَيْہِ وَرَخَّصَ فِيہِ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ وَہُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَقَالَ إِنْ كَانَ لَہُ عَلَيْہِ دَرَاہِمُ فَوَقَعَ لَہُ عِنْدَہُ دَنَانِيرُ فَلَيْسَ لَہُ أَنْ يَحْبِسَ بِمَكَانِ دَرَاہِمِہِ إِلَّا أَنْ يَقَعَ عِنْدَہُ لَہُ دَرَاہِمُ فَلَہُ حِينَئِذٍ أَنْ يَحْبِسَ مِنْ دَرَاہِمِہِ بِقَدْرِ مَا لَہُ عَلَيْہِ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: جوتمہارے پاس امانت رکھے اُسے امانت لوٹاؤ ۱؎ اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ (بھی)خیانت نہ کرو ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی کا کسی دوسرے کے ذمّہ کوئی چیز ہواور وہ اسے لے کرچلاجائے پھر اس جانے والے کی کوئی چیز اس کے ہاتھ میں آئے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس میں سے اتنا روک لے جتنا وہ اس کالے کرگیاہے،۳-تابعین میں سے بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے،اوریہی ثوری کا بھی قول ہے،وہ کہتے ہیں: اگراس کے ذمہ درہم ہو اور(بطور امانت) اس کے پاس اس کے دینار آگئے تواس کے لیے جائزنہیں کہ وہ اپنے دراہم کے بدلے اسے روک لے،البتہ اس کے پاس اس کے دراہم آجائیں تو اس وقت اس کے لیے درست ہوگا کہ اس کے دراہم میں سے اتناروک لے جتنا اس کے ذمہ اس کا ہے۔