Jamia al-Tirmidhi Hadith 1266 (سنن الترمذي)
[1266] إسنادہ ضعیف
سنن أبي داود (3561) ابن ماجہ (2400)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ عَلَی الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّی تُؤَدِّيَ قَالَ قَتَادَةُ ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ فَقَالَ فَہُوَ أَمِينُكَ لَا ضَمَانَ عَلَيْہِ يَعْنِي الْعَارِيَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَہَبَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ إِلَی ہَذَا وَقَالُوا يَضْمَنُ صَاحِبُ الْعَارِيَةِ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ لَيْسَ عَلَی صَاحِبِ الْعَارِيَةِ ضَمَانٌ إِلَّا أَنْ يُخَالِفَ وَہُوَ قَوْلُ الْثَّوْرِيِّ وَأَہْلِ الْكُوفَةِ وَبِہِ يَقُولُ إِسْحَقُ
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جوکچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک وہ اسے ادانہ کردے اس کے ذمہ ہے ۱؎،قتادہ کہتے ہیں: پھرحسن بصری اس حدیث کو بھول گئے اور کہنے لگے جس نے عاریت لی ہے وہ تیرا امین ہے،اس پر تاوان نہیں ہے،یعنی عاریت لی ہوئی چیز تلف ہونے پر تاوان نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں یہ لوگ کہتے ہیں: عاریۃً لینے والا ضامن ہوتا ہے۔اوریہی شافعی اور احمد کابھی قول ہے،۳-صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ عاریت لینے والے پر تاوان نہیں ہے،الا یہ کہ وہ سامان والے کی مخالفت کرے۔ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے اوراسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔