Jamia al-Tirmidhi Hadith 1284 (سنن الترمذي)

[1284] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (2249)

میمون لم یدرک علیًا رضي اللہ عنہ (د 2696)

فالسند منقطع

انوار الصحیفہ ص 222

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ الْحَجَّاجِ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ وَہَبَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُ أَحَدَہُمَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ يَا عَلِيُّ مَا فَعَلَ غُلَامُكَ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ رُدَّہُ رُدَّہُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ كَرِہَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ التَّفْرِيقَ بَيْنَ السَّبْيِ فِي الْبَيْعِ وَرَخَّصَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي التَّفْرِيقِ بَيْنَ الْمُوَلَّدَاتِ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي أَرْضِ الْإِسْلَامِ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاہِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّہُ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِہَا فِي الْبَيْعِ فَقِيلَ لَہُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ إِنِّي قَدْ اسْتَأْذَنْتُہَا بِذَلِكَ فَرَضِيَتْ

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے دوغلام دیئے جو آپس میں بھائی تھے،میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا،پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: علی! تمہارا غلام کیا ہوا؟ میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے ایک کوبیچ دیا ہے) تو آپ نے فرمایا: اُسے واپس لوٹالو،اُسے واپس لوٹالو۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم بیچتے وقت (رشتہ دار) قیدیوں کے درمیان جدائی ڈالنے کوناجائزکہا ہے،۳-اوربعض اہل علم نے ان لڑکوں کے درمیان جدائی کو جائزقراردیا ہے جو سرزمین اسلام میں پیداہوئے ہیں۔پہلاقول ہی زیادہ صحیح ہے،۴-ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بیچتے وقت ماں اور اس کے لڑکے کے درمیان تفریق،چنانچہ ان پر یہ اعتراض کیاگیا تو انہوں نے کہا: میں نے اس کی ماں سے اس کی اجازت مانگی تو وہ اس پر راضی ہے۔