Jamia al-Tirmidhi Hadith 1288 (سنن الترمذي)

[1288] إسنادہ ضعیف

أبو جبیر لم یوثقہ غیر الترمذي وھو مقبول عند الحافظ ابن حجر (تقریب: 8010) أي مجہول الحال وللحدیث شاہد ضعیف عند أبي داود(2622)و ابن ماجہ (2299)

انوار الصحیفہ ص 222

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأَخَذُونِي فَذَہَبُوا بِي إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا رَافِعُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَہُمْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ الْجُوعُ قَالَ لَا تَرْمِ وَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللہُ وَأَرْوَاكَ ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ

رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھرمارتاتھا،ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرمﷺکے پاس لے گئے آپ نے پوچھا:رافع!تم ان کے کھجورکے درختوں پر پتھرکیوں مارتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھوک کی وجہ سے،آپ نے فرمایا: پتھرمت مارو،جو خود بخود گرجائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے ۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔