Jamia al-Tirmidhi Hadith 1322 (سنن الترمذي)

[1322] إسنادہ ضعیف

عبد الملک بن أبي جمیلۃ: مجہول (تقریب: 4170)

2/ القضاۃ ثلاثۃ

إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (3573) ابن ماجہ (2315)

الأعمش وشریک القاضي عنعنا

انوار الصحیفہ ص 223

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّنْعَانِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَال سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَوْہَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ اذْہَبْ فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ أَوَ تُعَافِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ فَمَا تَكْرَہُ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَی بِالْعَدْلِ فَبِالْحَرِيِّ أَنْ يَنْقَلِبَ مِنْہُ كَفَافًا فَمَا أَرْجُو بَعْدَ ذَلِكَ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُہُ عِنْدِي بِمُتَّصِلٍ وَعَبْدُ الْمَلِكِ الَّذِي رَوَی عَنْہُ الْمُعْتَمِرُ ہَذَا ہُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ

عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: جاؤ(قاضی بن کر) لوگوں کے درمیان فیصلے کرو،انہوں نے کہا: امیرالمومنین! کیاآپ مجھے معاف رکھیں گے،عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا:تم اسے کیوں برا سمجھتے ہو،تمہارے باپ تو فیصلے کیا کرتے تھے؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سناہے: جوقاضی ہوا اوراس نے عدل انصاف کے ساتھ فیصلے کئے تو لائق ہے کہ وہ اس سے برابر سرابر چھوٹ جائے(یعنی نہ ثواب کامستحق ہونہ عقاب کا) اس کے بعد میں(بھلائی کی)کیا امید رکھوں،حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث غریب ہے،میرے نزدیک اس کی سندمتصل نہیں ہے۔اور عبدالملک جس سے معتمر نے اِسے روایت کیا ہے عبدالملک بن ابی جمیلہ ہیں،۲-اس باب میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔