Jamia al-Tirmidhi Hadith 1324 (سنن الترمذي)
[1324] إسنادہ ضعیف
انظر الحدیث السابق (1323)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی الثَّعْلَبِيِّ عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ عَنْ خَيْثَمَةَ وَہُوَ الْبَصْرِيُّ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَنْ ابْتَغَی الْقَضَاءَ وَسَأَلَ فِيہِ شُفَعَاءَ وُكِلَ إِلَی نَفْسِہِ وَمَنْ أُكْرِہَ عَلَيْہِ أَنْزَلَ اللہُ عَلَيْہِ مَلَكًا يُسَدِّدُہُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَہُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جو قضاکاطالب ہوتاہے اور اس کے لیے سفارشی ڈھونڈتاہے،وہ اپنی ذات کے سپردکردیاجاتاہے،اور جس کو جبراً قاضی بنایا گیاہے،اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کو راہ راست پررکھتاہے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-اوریہ اسرائیل کی (سابقہ) روایت سے جسے انہوں نے عبدالاعلیٰ سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔