Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 149 (سنن الترمذي)

[149]إسنادہ حسن

تحقیقی مقالات (4/ 109) مشکوۃ المصابیح (583)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ،حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ،عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ،عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ-وَہُوَ ابْنُ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ-أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ،قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ:أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْہِ السَّلاَم عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ،فَصَلَّی الظُّہْرَ فِي الأولَی مِنْہُمَا حِينَ كَانَ الْفَيْئُ مِثْلَ الشِّرَاكِ،ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِينَ كَانَ كُلُّ شَيْئٍ مِثْلَ ظِلِّہِ،ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ،وَأَفْطَرَ الصَّائِمُ،ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ،ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ،وَحَرُمَ الطَّعَامُ عَلَی الصَّائِمِ،وَصَلَّی الْمَرَّةَ الثَّانِيَةَ الظُّہْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْئٍ مِثْلَہُ لِوَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ،ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْئٍ مِثْلَيْہِ،ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ لِوَقْتِہِ الأَوَّلِ،ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ الآخِرَةَ حِينَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ،ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَتِ الأَرْضُ،ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ جِبْرِيلُ،فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! ہَذَا وَقْتُ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ،وَالْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ ہَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ. قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَبُرَيْدَةَ وَأَبِي مُوسَی وَأَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَالْبَرَائِ وَأَنَسٍ.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جبرئیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس میری دوبارامامت کی،پہلی بارانہوں نے ظہر اس وقت پڑھی (جب سورج ڈھل گیااور)سایہ جوتے کے تسمہ کے برابرہوگیا،پھرعصراس وقت پڑھی جب ہرچیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا ۱؎،پھر مغرب اس وقت پڑھی جب سورج ڈوب گیا اورصائم نے افطار کرلیا،پھر عشاء اس وقت پڑھی جب شفق ۲؎ غائب ہوگئی،پھرصلاۃِ فجر اس وقت پڑھی جب فجرروشن ہوگئی اورصائم پرکھاناپینا حرام ہوگیا،دوسری بارظہرکل کی عصرکے وقت پڑھی جب ہرچیز کا سایہ اس کے مثل ہوگیا،پھر عصراس وقت پڑھی جب ہرچیز کا سایہ اس کے دومثل ہوگیا،پھر مغرب اس کے اوّل وقت ہی میں پڑھی (جیسے پہلی بارمیں پڑھی تھی) پھر عشاء اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزرگئی،پھرفجراس وقت پڑھی جب اجالا ہوگیا،پھرجبرئیل نے میری طرف متوجہ ہوکر کہا:اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقاتِ صلاۃ تھے،آپ کی صلاتوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ،بریدہ،ابوموسیٰ،ابومسعود انصاری،ابوسعید،جابر،عمروبن حرم،براء اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔