Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 154 (سنن الترمذي)

[154]صحیح

مشکوۃ المصابیح (614)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ہُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّہُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ قَالَ وَقَدْ رَوَی شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ أَيْضًا عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَجَابِرٍ وَبِلَالٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَأَی غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ الْإِسْفَارَ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَبِہِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ مَعْنَی الْإِسْفَارِ أَنْ يَضِحَ الْفَجْرُ فَلَا يُشَكَّ فِيہِ وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ مَعْنَی الْإِسْفَارِ تَأْخِيرُ الصَّلَاةِ

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: فجر خوب اجالاکرکے پڑھو،کیونکہ اس میں زیادہ ثواب ہے ۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں ابوبرزہ اسلمی،جابر اور بلال رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۴-صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کی رائے صلاۃِفجراجالاہونے پرپڑھنے کی ہے۔یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔اور شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اسفار (اجالاہونے) کا مطلب یہ ہے کہ فجر واضح ہوجائے اور اس کے طلوع میں کوئی شک نہ رہے،اسفار کا یہ مطلب نہیں کہ صلاۃ تاخیر(دیر) سے اداکی جائے ۱؎۔