Jamia al-Tirmidhi Hadith 160 (سنن الترمذي)
[160]صحیح
صحیح مسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِہِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ الظُّہْرِ وَدَارُہُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ قُومُوا فَصَلُّوا الْعَصْرَ قَالَ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّی إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللہَ فِيہَا إِلَّا قَلِيلًا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ وہ بصرہ میں جس وقت ظہر پڑھ کر لوٹے تو وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر آئے،ان کا گھر مسجد کے بغل ہی میں تھا۔انس بن مالک نے کہا: اٹھوچلوعصرپڑھو،توہم نے اٹھ کر صلاۃ پڑھی،جب پڑھ چکے تو انہوں نے کہاکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سناہے: یہ منافق کی صلاۃ ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہے،یہاں تک کہ جب وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان آجائے تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مارلے،اور ان میں اللہ کو تھوڑا ہی یادکرے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔