Jamia al-Tirmidhi Hadith 174 (سنن الترمذي)
[174]حسن
قال الترمذی: ’’وليس إسناده بمتصل‘‘، إسحاق بن عمر: مجھول، ترکہ الدارقطنی، ولہ شواھد عند الحاکم (1/ 190 ح 282) وغیرہ مشکوۃ المصابیح (608)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي ہِلَالٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا صَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ صَلَاةً لِوَقْتِہَا الْآخِرِ مَرَّتَيْنِ حَتَّی قَبَضَہُ اللہُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُہُ بِمُتَّصِلٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَالْوَقْتُ الْأَوَّلُ مِنْ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَی فَضْلِ أَوَّلِ الْوَقْتِ عَلَی آخِرِہِ اخْتِيَارُ النَّبِيِّ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يَكُونُوا يَخْتَارُونَ إِلَّا مَا ہُوَ أَفْضَلُ وَلَمْ يَكُونُوا يَدَعُونَ الْفَضْلَ وَكَانُوا يُصَلُّونَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ قَالَ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ عَنْ الشَّافِعِيِّ
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کوئی صلاۃ اس کے آخری وقت میں دوبار نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث غریب ہے اوراس کی سند متصل نہیں ہے،۲-شافعی کہتے ہیں: صلاۃ کا اول وقت افضل ہے اورجوچیزیں اوّل وقت کی افضیلت پر دلالت کرتی ہیں منجملہ انہیں میں سے نبی اکرمﷺ،ابوبکر،اورعمر رضی اللہ عنہما کا اسے پسندفرمانا ہے۔یہ لوگ اسی چیزکو معمول بناتے تھے جو افضل ہو اور افضل چیزکونہیں چھوڑتے تھے۔اوریہ لوگ صلاۃ کو اوّل وقت میں پڑھتے تھے۔